پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی تنازع ایک نئے اور سنگین مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی فضائی کارروائیوں اور سرحد پار حملوں کے بعد کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال اب محدود جھڑپوں تک نہیں رہی بلکہ “یہ اب کھلی جنگ ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق کارروائیاں ان عناصر کے خلاف کی گئیں جو پاکستان کے اندر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ دوسری جانب افغان حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران خطے کے امن، تجارتی راستوں اور انسانی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کر رہی ہے۔